اندور،25جنوری(آئی این ایس انڈیا)شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) اور این آرسی کی مخالفت میں جمعہ کو ایک سی پی ایم کارکن نے مدھیہ پردیش کے اندور میں خود کو آگ کے حوالے کر دیا۔سی پی ایم کارکن نے آگ لگانے کے ساتھ ہی اپنے دستخط کئے گئے پمفلیٹ بھی پھینکے،ان پمفلیٹس میں لکھا گیا تھا کہ یہ قانون ہندوستان کی آزادی اور آئین کو خطرے میں ڈال دے گا۔درزی کا کام کرنے والے 65 سال رمیش پرجاپتی نے سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر راہ چلتے لوگوں کو پہلے پمفلٹ بانٹے اور پھر خود کو آگ لگا لی،ان کی حالت اس وقت نازک ہے۔’لال سلام‘لکھے ان پمفلٹ میں مجاہد آزادی بھگت سنگھ اور اشفاق اللہ خان اور بی آرامبیڈکر کی تصاویر تھیں اور آخر میں ایک گیت کی چند لائنیں لکھی تھیں ’تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا، انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا‘
فی الحال وہ شخص بیان دینے کی حالت میں نہیں ہے۔تکوگنج کے تھانہ انچارج نرمل کمار شریواس نے کہا کہ یہ کہنا جلد بازی ہوگی کہ کس وجہ سے انہوں نے خود کو آگ لگا لی۔ریاستی سی پی ایم سکریٹری کیلاش لمبودیا نے تصدیق کی کہ پرجاپتی ایک پارٹی کارکن تھے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اطلاع ملتے ہی ہم موقع پر پہنچے،یہ کہنا جلد بازی ہوگی کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔
سی پی ایم کے ڈسٹرکٹ سکریٹری چھوٹے لال شیراوت نے کہا کہ پرجاپتی نے اندور میں پارٹی کی طرف سے منعقد احتجاج میں حصہ لیا تھا۔سی پی ایم کارکن کی طرف سے دستخط شدہ پمفلیٹ میں دہلی کے جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں حالیہ تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے ان میں لکھا ہے، ’پورا ملک شہریت (ترمیمی) ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کر رہا ہے، دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود بھی خواتین اور بچوں کو سڑکوں پر لے جایا گیا ہے،پولیس کی فائرنگ میں کم از کم 30 لوگوں کی موت ہو گئی ہے اور ہزاروں لوگ جیل گئے ہیں ِپمفلیٹ میں لکھا ہے، ’آمریت نہیں چلے گی‘۔